ابنا: معروف تجزیہ نگار غالب قادل نے کہا کہ سعودی عرب کے سابق ا نٹلیجنس چیف بندبن سلطان کو اس لئے اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا کیونکہ وہ شام کے مشن میں ناکام ہوچکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ طبعی علاج کے لئے امریکہ جانے کے بہانے بندر بن سلطان نے واشنگٹن کی شام میں مقاصد کو حاصل نہ کرنے کی ناکامی کوچھپانے کی کوشش کی ۔
غالب قادل نے مزید کہ اکہ امریکہ کے دباؤ میں سعودی عرب نے انٹلیجنس کا عہدہ دوسرے شہزادے کو منتقل کیا کیونکہ واشنگٹن کے اشاروں پرکام کرتی ہے۔
رواں ہفتے کے شروع سے ہی ایسی رپورٹیں سامنے آرہی تھی کہ شام میں تکفیری دہشتگردوں کو ہتھیار فراہم کرنے کی ذمہ داری بندر بن سلطان سے چھین لی گئی ہے۔
یاد رہے کہ شامی دہشتگردوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کرنے میں سعودی عرب سب سے آگے ہے۔
امریکہ اخبار ‘‘وال سٹریٹ جنرل ’’ نے شاہی مشیر کے حوالے سے گذشتہ ہفتے رپورٹ دی تھی کہ بندر بن سلطان کا عہدہ دوسرے شہزادے کو دیا گیا ہے جس کی امریکہ نے بھی حمایت کی ہے۔
لبنانی تجزیہ نگار سے جب یہ سوال کیاگیا کہ بندر بن سلطان کی برطرفی کا ابھی تک سرکاری طور پر اعلان کیوں نہیں کیا گیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا باضابطہ اعلان صدر اوبامہ کے دورے ریاض کے دوران کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان پائی جائی تلخی کو کسی حد تک کم کیا جائے ۔
.......
/169